(۳۸۷۰۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ قَیْسٍ الْکِنْدِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یَظْہَرَ الْقَوْلُ ، وَیَخْزُنَ وَیَرْتَفِعَ الأَشْرَارُ ، وَیُوضَعَ الأَخْیَارُ ، وَتُقْرَأُ الْمَثَانِی عَلَیْہِمْ ، فَلاَ یَعِیبُہَا أَحَدٌ مِنْہُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا الْمَثَانِی ، قَالَ : کُلُّ کِتَابٍ سِوَی کِتَابِ اللہِ۔
(٣٨٧٠٤) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قیامت کی علامات میں سے ہے کہ باتیں ظاہر ہوں گی اور عمل بدل جائے گا شریر لوگ بلند ہوجائیں گے اور بھلے لوگ نیچے کردیے جائیں گے اور ان پر مثانی پڑھی جائے گی ان میں کوئی بھی اس پر عیب نہیں لگائے گا راوی نے کہا میں نے عرض کیا مثانی کیا ہے انھوں نے فرمایا ہر کتاب جو اللہ کی کتاب (یعنی قرآن مجید) کے علاوہ ہو۔