(۳۸۷۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا ذَہَبَ الرَّجُلُ إِلَی المَالِ کَنْزِہِ فَیَسْتَخْرِجُہُ فَیَحْمِلُہُ عَلَی ظَہْرِہِ فَیَقُولُ : مَنْ ضَلَّ لَہُ فِی ہَذِہِ فَیُقَالُ لَہُ : أَفَلاَ جِئْت بِہِ بِالأَمْسِ ، فَلاَ یُقْبَلُ منہ فَیَجِیئُ بہ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِی احْتَفَرَہُ ، فَیَضْرِبُ بِہِ الأَرْضَ وَیَقُولُ : لَیْتَنِی لَمْ أَرَک۔
(٣٨٧٥٠) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو آدمی اپنے اس مال کی طرف جائے گا جسے اس نے زمین میں دفن کیا ہوگا پس وہ اسے نکالے گا اور اپنی پشت پر اسے لاد کر کہے گا کس کو اس مال میں رغبت ہے اس سے کہا جائے گا تو اسے گزشتہ کل کیوں نہ لایا پس اس سے نہ قبول کیا جائے گا وہ اسے اسی جگہ لائے گا جہاں سے کھود کر اسے لایا تھا وہ زمین پر اسے مارے گا اور کہے گا کاش میں نے تجھے نہ دیکھا ہوتا۔