(۳۸۸۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ إدْرِیسَ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ عَبْدِالْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، قَالَ: لَمَّا سَارَ عَلِیٌّ إِلَی صِفِّینَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَی النَّاسِ فَخَطَبَہُمْ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ فَرَأَی فِیہِمْ قِلَّۃً ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، اخْرُجُوا فَمَنْ خَرَجَ فَہُوَ آمِنٌ، إنَّا وَاللہِ نَعْلَمُ أَنَّ مِنْکُمَ الْکَارِہَ لِہَذَا الأمر الْمُتَثَاقِلَ عَنْہُ فَاخْرُجُوا ، فَمَنْ خَرَجَ فَہُوَ آمِنٌ ، إنَّا وَاللہِ مَا نُعِدُّہا عَافِیَۃً أَنْ یَلْتَقِیَ ہَذَانِ الْغَارَانِ یَتَّقِی أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ ، وَلَکِنَّنَا نُعِدُّہَا عَافِیَۃً أَنْ یُصْلِحَ اللَّہُ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَجْمَعَ أُلْفَتَہَا، أَلاَ أُخْبِرُکُمْ عَنْ عُثْمَانَ، وَمَا نَقَمَ النَّاسُ عَلَیْہِ، إنَّہُمْ لَنْ یَدَعُوہُ وَذَنْبَہُ حَتَّی یَکُونَ اللَّہُ ہُوَ یُعَذِّبُہُ ، أَوْ یَعْفُو عَنْہُ ، وَلَمْ یُدْرِکُوا الَّذِی طَلَبُوہُ ، إذْ حَسَدُوہُ مَا آتَاہُ اللَّہُ إیَّاہُ ۔
۲۔ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ، قَالَ لَہُ: أَنْتَ الْقَائِلُ مَا بَلَغَنِی عَنْک یَا فَرُّوخُ ، إنَّک شَیْخٌ قَدْ ذَہَبَ عَقْلُک، قَالَ: لَقَدْ سَمَّتْنِی أُمِّی بِاسْمٍ ہُوَ أَحْسَنُ مِنْ ہَذَا ، أَذَہَبَ عَقْلِی وَقَدْ وَجَبَتْ لِی الْجَنَّۃُ مِنَ اللہِ وَرَسُولِہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُہُ أَنْتَ ، وَمَا بَقِیَ مِنْ عَقْلِی فَإِنَّا کُنَّا نَتَحَدَّثُ بِأَنَّ الآخِرَ فَالآخِرَ شَرٌّ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَلَمَّا کَانَ بِالسِّیلِحِین أَوْ بِالْقَادِسِیَّۃِ خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَضُفْرَاہُ یَقْطُرَانِ ، یَرَوْنَ أَنَّہُ قَدْ تَہَیَّأَ لِلإِحْرَامِ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الْغَرْزِ وَأَخَذَ بِمُؤَخَّرِ وَاسِطَۃِ الرَّحْلِ قَامَ إلَیْہِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالُوا لَہُ : لَوْ عَہِدْت إلَیْنَا یَا أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَجْمَعُ أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ عَلَی ضَلاَلَۃٍ ، قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَیْہِ ، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالْجَمَاعَۃِ ، فَإِنَّمَا یَسْتَرِیحُ بَرٌّ ، أَوْ یُسْتَرَاحُ مِنْ فَاجِرٍ۔
(٣٨٨٢٥) عبدالعزیز بن رفیع سے منقول ہے کہ جب حضرت علی جنگ صفین کے لیے روانہ ہوئے تو ابو مسعود کو لوگوں پر پیچھے نائب بنایا پس انھوں نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو انھوں نے لوگوں کی قلت محسوس کی پھر فرمایا اے لوگو ! نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم اس بوجھل معاملے میں تمہاری پسندیدگی کو دیکھ رہے ہیں۔ تم نکلو جو نکلے گا وہ امن پائے گا۔ اللہ کی قسم ہم عافیت اسے شمار نہیں کرتے کہ دولشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہو ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے بچتا پھرے بلکہ ہم عافیت اسے سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ کی اصلاح فرمادے اور اس کے مابین محبت و الفت قائم فرمادے۔ کیا میں تم کو حضرت عثمان کے بارے میں نہ بتلاؤں اور ان سے لوگ کیوں ناراض ہوئے میں تم کو نہ بتلاؤں ؟ لوگوں نے حضرت عثمان اور ان کی خطا کو اللہ کے سپرد نہیں کیا کہ وہ اس کو عذاب دیتا یا معاف کرتا۔ اور وہ اس کو بھی نہ پاسکے جس کی انھیں طلب تھی کیونکہ انھوں نے ان سے اس پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا تھا۔ جب حضرت علی تشریف لائے تو ان سے کہا کہ آپ نے کہی ہے وہ بات جو مجھے پہنچی ہے اے چوزے تمہاری عقل جاتی رہی ہے حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ میری ماں نے اس نام سے بہتر نام رکھا ہے۔ کیا میری عقل جاتی رہی حالانکہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے جنت واجب کی کیا تم جانتے ہو ؟ جو میری عقل سے باقی ہے اسی وجہ سے ہم باتیں کرتے تھے کہ ہر دوسرا شر ہے یہ کہہ کر وہ نکل گئے۔ جب ابو مسعود سیلحین یا قادسیہ میں لوگوں کے سامنے آئے تو ان کی زلفوں سے پانی ٹپک رہا تھا، لوگوں نے دیکھا کہ وہ احرام کے لیے تیاری کرچکے ہیں اور انھوں نے جب رکاب میں پاؤں رکھا اور کجاوے کو پکڑا تو لوگ ان کے آس پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ تو ابو مسعود نے فرمایا کہ تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو بیشک اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ انھوں نے پھر نصیحت کا مطالبہ کیا تو انھوں نے پھر فرمایا تم تقویٰ کو لازم پکڑو اور جماعت کو لازم پکڑو ! بیشک نیک صالح ہی اطمینان پاتا ہے یا یہ فرمایا کہ فاجر سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔