(۳۸۸۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِیٌّ بِالْبَصْرَۃِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا قَتَلْتہ وَلاَ مَالأْت عَلَی قَتْلِہِ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِہِ : أَیُّ شَیْئٍ صَنَعْت الآنَ یَتَفَرَّقُ عَنْک أَصْحَابُک ، فَلَمَّا عَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ، قَالَ : مَنْ کَانَ سَائِلاً عَنْ دَمِ عُثْمَانَ فَإِنَّ اللَّہَ قَتَلَہُ وَأَنَا مَعَہُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : ہَذِہِ کَلِمَۃٌ قُرَشِیَّۃٌ ذَاتُ وَجْہٍ۔ (طبرانی ۱۱۳)
(٣٨٨٣٤) محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی نے بصرہ میں خطبہ فرمایا اللہ کی قسم میں نے عثمان کو قتل نہیں کیا اور نہ میں نے ان کے قتل میں معاونت کی۔ جب وہ منبر سے نیچے اترے تو آپ کے کسی ساتھی نے کہا پھر آپ نے کیا کیا ؟ اب آپ سے آپ کے ساتھی جدا ہورہے ہیں۔ پس جب حضرت علی واپس منبر پر آئے تو فرمایا عثمان کے قتل کے بارے میں سوال کرنے والا کون ہے ؟ بیشک عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں ان کے ساتھ ہوں گا (یعنی میں بھی قتل کردیا جاؤں گا) محمد کہتے ہیں یہ کلمہ ذو وجہین ہے۔