(۳۸۸۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا کَہْمَسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ شَقِیقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِی الأَقْرَعُ ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَی الأُسْقُفّ ، قَالَ : فَہُوَ یَسْأَلُہُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَیْہِمَا أُظِلُّہُمَا مِنَ الشَّمْسِ ، فَقَالَ لَہُ : ہَلْ تَجِدُنَا فِی کِتَابِکُمْ ، قَالَ : نَعَتَکُمْ وَأَعْمَالَکُمْ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُنِی ، قَالَ : أَجِدُک قَرْنَ حَدِیدٍ ، قَالَ : فنفط عُمَرُ فی وَجْہِہِ وَقَالَ : قَرْنُ حَدِیدٍ ، قَالَ أَمِینٌ شَدِیدٌ ، قَالَ : فَکَأَنَّہُ فَرِحَ بِذَلِکَ ، قَالَ فَمَا تَجِدُ بَعْدِی ، قَالَ خَلِیفَۃُ صِدْقٍ یُؤْثِرُ أَقْرَبِیہِ ، قَالَ ، یقول عُمَرُ : یَرْحَمُ اللَّہُ ابْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : فَمَا تَجِدُ بَعْدَہُ ، قَالَ : صَدْعُ حَدِیدٍ ، قَالَ : وَفِی یَدِ عُمَرَ شَیْئٌ یُقَلِّبُہُ ، قَالَ : فَنَبَذَہُ ، وَقَالَ : یَا دَفْرَاہ ، مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، فَقَالَ : لاَ تَقُلْ ذَلِکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّہُ خَلِیفَۃٌ مُسْلِمٌ وَرَجُلٌ صَالِحٌ ، وَلَکِنَّہُ یُسْتَخْلَفُ وَالسَّیْفُ مَسْلُولٌ وَالدَّمُ مُہْرَاقٌ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ ، وَقَالَ : الصَّلاَۃُ۔
(٣٨٨٤٢) اقرع بن حابس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک پادری کو بلایا حضرت عمر ان سے سوال کر رہے تھے اور میں ان دونوں پر سایہ کررہا تھا حضرت عمر نے اس سے کہا کیا آپ اپنی کتابوں میں ہمارا تذکرہ پاتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں تمہاری صفات اور اعمال کا تذکرہ ہے حضرت عمر نے پوچھا وہ کیا ؟ اس نے کہا میں آپ کو لوہے کا سینگ پاتا ہوں حضرت عمر اس بات سے ذرا پریشان ہوئے پھر پوچھا قرن حدید کیا ہے ؟ تو پادری نے جواب دیا سخت امانتدار۔ اس بات سے عمر خوش ہوئے۔ پھر کہنے لگے میرے بعد کیا پاتے ہو تو اس نے جواب دیا سچا خلیفہ جو اپنے اقرباء کو ترجیح دے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا اس کے بعد آپ کیا پاتے ہیں ؟ اس نے کہا لوہے میں شگاف۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی شے تھی جس کے ذریعے الٹ پلٹ کر رہے تھے حضرت عمر نے اسے پھینکا اور دو یا تین دفعہ یہ فرمایا ” یا دفرا “ (اے رسوا ہونے والے) پادری نے کہا آپ اس طرح نہ کہیے اے امیرالمؤمنین ! کیونکہ وہ مسلمان خلیفہ ہوگا اور نیک آدمی ہوگا لیکن وہ ایسی حالت میں خلیفہ بنے گا جب تلوار ننگی ہوگی اور خون بہہ رہا ہوگا۔ پھر حضرت عمر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا نماز کے لیے چلو۔