(۳۸۸۶۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدثنی العلاء بن المنہال قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی مُنْذَرُ الثَّوْرِیُّ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : فَنَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ مِنْ عُثْمَانَ فَقَالَ : مَہْ ، فَقُلْنَا لَہُ : کَانَ أَبُوک یَسُبُّ عُثْمَانَ ، قَالَ : مَا سَبَّہُ ، وَلَوْ سَبَّہُ یَوْمًا لَسَبَّہُ یَوْمَ جِئْتہ وَجَائَہُ السُّعَاۃُ ، فَقَالَ : خُذْ کِتَابَ السُّعَاۃِ فَاذْہَبْ بِہِ إِلَی عُثْمَانَ ، فَأَخَذْتہ فَذَہَبْت بِہِ إلَیْہِ ، فَقَالَ : لاَ حَاجَۃَ لَنَا فِیہِ ، فَجِئْت إلَیْہِ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : ضَعْہُ مَوْضِعَہُ ، فَلَوْ سَبَّہُ یَوْمًا لَسَبَّہُ ذَلِکَ الْیَوْمَ۔ (بخاری ۳۱۱۱)
(٣٨٨٦٢) منذر ثوری فرماتے ہیں کہ ہم محمد ابن حنفیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے حضرت عثمان کو برا بھلا کہا تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا ٹھہر جاؤ، تو ہم نے کہا آپ کے والد ماجد (حضرت علی ) تو ان کو برا بھلا کہا کرتے تھے تو انھوں نے فرمایا کہ انھوں نے کبھی حضرت عثمان کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگر وہ برا بھلا کہتے تو اس دن کہتے جس دن میں ان کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس صدقات وصول کرنے والے آئے ہوئے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا سب سے بہتر کتاب اللہ ہے اس کو لے جاؤ اور حضرت عثمان کو دے دو ۔ پس اسے لیکر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں پس میں حضرت علی کی خدمت میں واپس ہوا اور ان کو حضرت عثمان کے قول کے بارے میں بتایا پس حضرت علی نے فرمایا کہ اس کو اس کی جگہ پر رکھ دو ۔ اگر حضرت علی ان کو طعن وتشنیع کرتے تو اس دن کرتے۔