hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38863

.

ابن أبي شيبة

38863
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۸۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلأَشْتَرِ : لَقَدْ کُنْت کَارِہًا لِیَوْمِ الدَّارِ فَکَیْفَ رَجَعْت عَنْ رَأْیِکَ ، فَقَالَ : أَجَلْ ، وَاللہِ إِنْ کُنْت لَکَارِہًا لِیَوْمِ الدَّارِ وَلَکِنْ جِئْت بِأُمِّ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ لأُدْخِلَہَا الدَّارَ ، وَأَرَدْت أَنْ أُخْرِجَ عُثْمَانَ فِی ہَوْدَجٍ ، فَأَبَوْا أَنْ یَدَعُونِی وَقَالوا : مَا لَنَا وَلَک یَا أَشْتَرُ ، وَلَکِنِّی رَأَیْت طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرَ وَالْقَوْمَ بَایَعُوا عَلِیًّا طَائِعِینَ غَیْرَ مُکْرَہِینَ ، ثُمَّ نَکَثُوا عَلَیْہِ ، قُلْتُ : فَابْنُ الزُّبَیْرِ الْقَائِلُ : اقْتُلُونِی وَمَالِکًا ، قَالَ : لاَ وَاللہِ ، وَلاَ رَفَعْت السَّیْفَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَأَنَا أَرَی أَنَّ فِیہِ شَیْئًا مِنَ الرُّوحِ لأَنِّی کُنْت عَلَیْہِ بِحَنَقٍ لأَنَّہُ اسْتَخَفَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ حَتَّی أَخْرَجَہَا ، فَلَمَّا لَقِیتہ مَا رَضِیت لَہُ بِقُوَّۃِ سَاعِدِی حَتَّی قُمْت فِی الرِّکَابَیْنِ قَائِمًا فَضَرَبْتہ عَلَی رَأْسِہِ ، فَرَأَیْتُ أَنِّی قَدْ قَتَلْتہ ، وَلَکِنَّ الْقَائِلَ اقْتُلُونِی وَمَالِکًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَتَّابِ بْنِ أُسَیْدٍ ، لَمَّا لَقِیتہ اعْتَنَقْتہ فَوَقَعْت أَنَا وَہُوَ عَنْ فَرَسَیْنَا ، فَجَعَلَ یُنَادِی : اقْتُلُونِی وَمَالِکًا ، وَالنَّاسُ یَمُرُّونَ لاَ یَدْرُونَ مَنْ یَعْنِی ، وَلَمْ یَقُلْ : الأَشْتَرُ ، لَقُتِلْت۔
(٣٨٨٦٤) علقمہ سے منقول ہے کہتے ہیں میں نے مشتہر سے کہا آپ تو یوم دار (حضرت کے گھر کے محاصرے کا دن) کو ناپسند کرتے تھے پھر آپ نے کیسے اپنی رائے سے رجوع کیا ؟ تو اس نے کہا اللہ کی قسم میں یوم دار کو ناپسند کرتا تھا اور میں ام حبیبہ بنت ابو سفیان کو لایا تاکہ میں ان کو حضرت عثمان کے گھر لے جاؤں اور حضرت عثمان کو ھودج میں نکال لوں۔ مگر انھوں نے مجھے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ ہمارا اشتر سے کیا واسطہ۔ لیکن میں نے طلحہ زبیر اور کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت علی کے ہاتھ پر بغیر کسی اکراہ کے بیعت کی اور پھر اس بیعت کو توڑ ڈالا۔ علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ابن زبیر یہ کہنے والے تھے کہ ” مجھے اور مالک کو قتل کردو “ تو اس نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں نے ابن زبیر سے تلوار نہیں ہٹائی تھی اس حال میں کہ اندر روح کو دیکھ رہا تھا (یعنی زندگی کی رمق دیکھتا رہا) کیونکہ مجھے ان پر غصہ تھا اس بات پر کہ انھوں نے ام المومنین کو وقعت نہ دی تھی یہاں تک کہ میں ام المومنین کو واپس لے گیا۔ پس جب میرا ان سے لڑائی میں سامنا ہوا تو میں نے اپنے بازؤں کی قوت پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ میں نے دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر قوت کے ساتھ ان کے سر میں تلوار ماری پس میں نے اس کو قتل ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ لیکن (مجھے اور مالک کو قتل کردو) کہنے والے، عبدالرحمن بن عتاب سے جب ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر تلوار زنی کی حتی کہ میں اور وہ اپنے گھوڑوں سے گرگئے پس اس نے پکارنا شروع کیا کہ مجھے اور مالک کو قتل کردو اور لوگ گزر رہے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ مالک سے اس کی مراد کیا ہے کیونکہ اس نے اشتر نہیں کہا تھا اگر وہ اشتر کہتا تو قتل کردیا جاتا۔