(۳۸۸۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَمِیرَۃَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ وَمَنْ مَعَہُمْ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِی مَجْمَعٍ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ، أَحَدُ بَنِی جُشَمٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ القوم الَّذِینَ قَدِمُوا عَلَیْکُمْ ، إِنْ کَانَ إنَّمَا بِہِمَ الْخَوْفُ فَجَاؤُوا مِنْ حَیْثُ یَأْمَنُ الطَّیْرُ ، وَإِنْ کَانَ إنَّمَا بِہِمْ قَتْلُ عُثْمَانَ فَہُمْ قَتَلُوہُ ، وَإِنَّ الرَّأْیَ فِیہِمْ أَنْ تُنَخَّس بِہِمْ دَوَابُّہُمْ حَتَّی یَخْرُجُوا۔
(٣٨٨٦٧) عمیرہ بن سعد سے منقول ہے کہ جب طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی آئے تو ایک شخص مجمع کے درمیان سے اٹھا اور کہا میں فلاں بن فلاں قبیلہ بنی جشم سے ہوں۔ پھر کہا یہ لوگ (طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی) تمہارے پاس آئے ہیں۔ اگر یہ کسی خوف کی وجہ سے آئے ہیں تو پھر ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں پرندے کو بھی امن حاصل ہے (یعنی مکہ میں) اور اگر حضرت عثمان کے قتل کی وجہ سے آئے ہیں تو ان کے پاس ہی ان کو قتل کیا گیا ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ ان کے جانوروں کو آنکڑے ماریں جائیں تاکہ یہ یہاں سے نکل جائیں۔