hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38881

.

ابن أبي شيبة

38881
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۸۸۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ أَقْبَلَ فِتْیَۃٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، فَلَمَّا رَآہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَیْنَاہُ وَتَغَیَّرَ لَوْنُہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُ : مَا نَزَالُ نَرَی فِی وَجْہِکَ شَیْئًا نَکْرَہُہُ ، قَالَ : إنَّا أَہْلَ البَیْت اخْتَارَ اللَّہُ لَنَا الآخِرَۃَ عَلَی الدُّنْیَا ، وَإِنَّ أَہْلَ بَیْتِی سَیَلْقَوْنَ بَعْدِی بَلاَئً وَتَشْرِیدًا وَتَطْرِیدًا ، حَتَّی یَأْتِیَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَہُمْ رَایَاتٌ سُودٌ یَسْأَلُونَ الْحَقَّ فَلاَ یُعْطُونَہ ، فَیُقَاتِلُونَ فَیُنْصَرُونَ فَیُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا ، فَلاَ یَقْبَلُونَہُ حَتَّی یَدْفَعُوہَا إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِی ، فَیَمْلَؤُہَا قِسْطًا کَمَا مَلؤُوہَا جَوْرًا ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَأْتِہِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ۔ (ابن ماجہ ۴۰۸۲۔ حاکم ۴۶۴)
(٣٨٨٨٢) عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ اس دوران بنو ہاشم کے کچھ نوجوان سامنے آئے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ کے چہرے پر ایسی شئے کو دیکھ رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل بیت کے لیے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے۔ میرے بعد اہل بیت کو ایک آزمائش، انتشار اور جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں تک کہ مشرق کی جانب سے ایک قوم آئے گی ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے وہ حق کا مطالبہ کریں گے مگر ان کو حق نہیں دیا جائے گا پس وہ قتال کریں گے اور نقصان پہنچائیں گے پس ان کا مطالبہ تسلیم کیا جائے گا مگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے یہاں تک کہ امر خلافت میرے اہل بیت کے ایک شخص کے سپرد کردیا جائے پس وہ زمین کو ایسے انصاف سے بھر دیں گے جیسے ان سے پہلوں نے ظلم وستم سے بھردیا تھا۔ تم میں سے اگر کوئی اس کو پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ان کے پاس جائے اگرچہ بر ف پر گھسٹ کر جانا پڑے۔