(۳۸۸۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُبَیْدِ اللہِ بْنِ زِیَادٍ بِالْبَصْرَۃِ وَقَدْ أُتِیَ بِجِزْیَۃِ أَصْبَہَانَ ثَلاَثَۃِ آلاَفِ أَلْفٍ ، فَہِیَ مَوْضُوعَۃٌ بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : یَا أَبَا وَائِلٍ ، مَا تَقُولُ فِیمَنْ مَاتَ وَتَرَکَ مِثْلَ ہَذِہِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَعْرِضُ بِہِ کَیْفَ إِنْ کَانَتْ مِنْ غُلُولٍ ، قَالَ : ذَاکَ شَرٌّ عَلَی شَرٍّ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا وَائِلٍ ، إِذَا أَنَا قَدِمْت الْکُوفَۃَ فَأْتِنِی لَعَلِّی أُصِیبُک بِخَیْرٍ ، قَالَ : فَقَدِمَ الْکُوفَۃَ ، قَالَ : فَأَتَیْت عَلْقَمَۃَ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : أَمَا إنَّک لَوْ أَتَیْتہ قَبْلَ أَنْ تَسْتَشِیرَنِی لَمْ أَقُلْ لَکَ شَیْئًا ، فَأَمَّا إِذَا اسْتَشَرْتنِی فَإِنَّہُ بَحَقٍّ عَلَیَّ أَنْ أَنْصَحَک ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ ، أَنَّ لِی أَلْفَیْنِ مِنَ الْفَیْئِ وَإِنِّی أَعَزُّ الْجُنْدِ عَلَیْہِ ، وَذَلِکَ أَنِّی لاَ أُصِیبُ مِنْ دُنْیَاہُمْ شَیْئًا إِلاَّ أَصَابُوا مِنْ دِینِی أَکْثَرَ مِنْہُ۔
(٣٨٨٨٥) ابو وائل سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس بصرہ گیا جب کہ اس کے سامنے اصبہان کا تین لاکھ جزیہ پڑا تھا۔ ابن زیاد نے کہا اے ابو وائل اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اتنا ترکہ چھوڑ کر مرا ہو۔ میں نے تعریض کرتے ہوئے کہا کیا حال ہو اگر یہ خیانت کا مال ہو۔ ابن زیاد نے کہا یہ تو شرپر شر ہوا، پھر کہا اے ابو وائل جب میں کوفہ آؤں تو میرے پاس آنا ممکن ہے کہ میں تمہیں خیر پہنچاؤں، ابو وائل کہتے ہیں : اگر آپ مجھ سے مشورہ کرنے سے پہلے اس کے پاس چلے جاتے تو میں کچھ نہ کہتا، اور اب اگر مجھ سے مشورہ کر ہی بیٹھے ہو تو مجھ پر یہ حق ہے آپ کا کہ آپ کو نصیحت کروں، پس علقمہ نے فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ میرے لیے دولاکھ درہم ہوں اور مجھے ایک لشکر پر عزت دی جائے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ میں ان کی دنیا تک اتنا نہیں پہنچ سکتا جتنا وہ میرے دین کو نقصان پہنچائیں گے۔