(۳۸۸۸۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی مَوْلاَتِی سِدْرَۃُ ، أَنَّ جَدّکَ سَلَمَۃَ بْنَ قَیْسٍ حَدَّثَنِی ، قَالَ : لَقِیت أَبَا ذَرٍّ ، فَقَالَ : یَا سَلَمَۃُ بْنُ قَیْسٍ ، ثَلاَثٌ قَدْ حَفِظْتہَا لاَ تَجْمَعْ بَیْنَ الضَّرَائِرِ فَإِنَّک لَنْ تَعْدِلَ وَلَوْ حَرَصْت ، وَلاَ تَعْمَلْ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَإِنَّ صَاحِبَ الصَّدَقَۃِ زَائِدٌ وَنَاقِصٌ ، وَلاَ تَغْشَ ذَا سُلْطَانٍ فَإِنَّک لاَ تُصِیبُ مِنْ دُنْیَاہُمْ شَیْئًا إِلاَّ أَصَابُوا مِنْ دِینِکَ أَفْضَلَ مِنْہُ۔ (عبدالرزاق ۲۰۷۴۰)
(٣٨٨٨٧) سلمہ بن قیس سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انھوں نے فرمایا : اے سلمہ بن قیس ! تین چیزوں کو تم محفوظ کرلو دوسوکنوں کو جمع نہ کرنا تم عدل نہیں کرپاؤ گے اگرچہ تم کتنے ہی حریص ہو، دوسرا صدقات پر محصل نہ بننا کیونکہ یا تو وہ کمی کرنے والا ہوتا ہے یا زیادتی کرنے والا، بادشاہ کے قریب زیادہ نہ جانا کیونکہ جتنا تم ان کی دنیا تک پہنچو گے اس سے زیادہ یہ تمہارے دین کو لے اڑیں گے۔