(۳۸۹۰۹) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِی الْجَلْدِ ، قَالَ : تَکُونُ فِتْنَۃٌ بَعْدَہَا فِتْنَۃٌ ، الأُولَی فِی الآخِرَۃِ : کَثَمَرَۃِ السَّوْطِ یَتْبَعُہَا ذُبَابُ السَّیْفِ ، ثُمَّ تَکُونُ بَعْدَ ذَلِکَ فِتْنَۃٌ تُسْتَحَلُّ فِیہَا الْمَحَارِمُ کُلُّہَا ، ثُمَّ تَأْتِی الْخِلاَفَۃُ خَیْرُ أَہْلِ الأَرْضِ وَہُوَ قَاعِدٌ فِی بَیْتِہِ ہَنِیًّا۔ (عبدالرزاق ۲۰۷۷۱)
(٣٨٩٠٩) ابوجلد سے منقول ہے کہ ایک کے بعد دوسرا فتنہ برپا ہوگا۔ پہلا دوسرے کے لیے ایسے ہوگا جے سی کوڑے کے نیچے حصے کے پیچھے تلوار کی دھار آئی پھر اس کے بعد ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں تمام حرام چیزوں کو حلال سمجھا جائے گا۔ پھر اہل زمین پر سب سے بھلے آدمی کی خلافت قائم ہوگی پھر مزے کے ساتھ وہ گھر میں بیٹھے گا۔