(۳۸۹۱۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاہُ ، قَالَ : شَہِدْت یَوْمَ الْجَمَلِ فَمَا دَخَلْت دَارَ الْوَلِیدِ إِلاَّ ذَکَرْت یَوْمَ الْجَمَلِ ، وَوَقْعَ السُّیُوفِ عَلَی الْبِیضِ ، قَالَ : کُنْتُ أَرَی عَلِیًّا یَحْمِلُ فَیَضْرِبُ بِسَیْفِہِ حَتَّی یَنْثَنِیَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَقُولُ : لاَ تَلُومُونِی ، وَلُومُوا ہَذَا ، ثُمَّ یَعُودُ فَیُقَوِّمُہُ۔
(٣٨٩١٣) حضرت اعمش نے ایک آدمی سے نقل کیا ہے اس کا نام بھی ذکر کیا تھا کہ میں یوم جمل کو جنگ میں حاضر ہوا تھا میں جب بھی ولید کے گھر میں داخل ہوتا ہوں یوم جمل مجھے ضرور یاد آتا ہے جس دن تلواریں خودوں پر لگ رہی تھیں۔ حضرت علی کو میں نے دیکھا تلوار اٹھائے ہوئے تلوار چلاتے ہوئے آگے جاتے پھر واپس لوٹتے اور کہتے مجھے ملامت نہ کرو اسے ملامت کرو پھر لوٹتے اور اسے سیدھا کرتے۔