(۳۸۹۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ، عَن عَبْدِاللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، أَنَّ الأَشْتَرَ، وَابْنَ الزُّبَیْرِ الْتَقَیَا، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: فَمَا ضَرَبْتہ ضَرْبَۃً حَتَّی ضَرَبَنِی خَمْسًا ، أَوْ سِتًّا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : وَأَلْقَانِی بِرِجْلِی، ثم قَالَ: وَاللہِ لَوْلاَ قَرَابَتُک مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا تَرَکْت مِنْک عُضْوًا مَعَ صَاحِبِہِ، قَالَ : وَقَالَتْ عَائِشَۃُ : وَاثُکْلَ أَسْمَائَ ، قَالَ : فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ أَعْطَتِ الَّذِی بَشَّرَہَا بِہِ ، أَنَّہُ حَیٌّ عَشَرَۃَ آلاَفٍ۔
(٣٨٩٢١) عبداللہ بن عبید بن عمیر روایت کرتے ہیں کہ اشتر اور ابن زبیرکا (جنگ جمل میں) آمنا سامنا ہوا۔ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے اشتر پر ایک وار بھی نہ کیا یہاں تک کہ اسنے پانچ یا چھ وار مجھ پر کیے اور مجھے پاؤں میں گرا دیا پھر کہنے لگا اللہ کی قسم اگر تمہاری رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتہ داری نہ ہوتی تو تمہارا ایک عضو بھی سلامت نہ چھوڑتا۔ حضرت عائشہ نے یہ منظر دیکھ کر پکارا ہائے اسمائ ! جب اشتر دور ہوگیا تو حضرت عائشہ نے اس شخص کو دس ہزار درہم دیا جس نے آکر یہ خوشخبری سنائی تھی کہ عبداللہ بن زبیر زندہ ہیں۔