(۳۸۹۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَتْ عَائِشَۃُ بَعْضَ مِیَاہِ بَنِی عَامِرٍ لَیْلاً نَبَحَتِ الْکِلاَبُ عَلَیْہَا ، فَقَالَتْ : أَیُّ مَائٍ ہَذَا ، قَالُوا : مَائُ الْحَوْأَبِ ، فَوَقَفَتْ ، فَقَالَتْ : مَا أَظُنُّنِی إِلاَّ رَاجِعَۃً ، فَقَالَ لَہَا طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ : مَہْلاً رَحِمَک اللَّہُ ، بَلْ تَقْدُمِینَ فَیَرَاک الْمُسْلِمُونَ فَیُصْلِحُ اللَّہُ ذَاتَ بَیْنِہِمْ ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِی إِلاَّ رَاجِعَۃً ، إنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ : کَیْفَ بِإِحْدَاکُنَّ تَنْبَحُ عَلَیْہَا کِلاَبُ الْحَوْأَبِ۔ (احمد ۵۲۔ نعیم بن حماد ۱۸۸)
(٣٨٩٢٦) قیس سے روایت ہے جب عائشہ بنو عامر کے ایک چشمہ پر پہنچیں تو کتوں نے بھونکناشروع کردیا۔ حضرت عائشہ نے پوچھا یہ کونسا چشمہ ہے۔ لوگوں نے بتایا ” حواب “ چشمہ ہے۔ پس وہ ٹھہر گئیں اور فرمانے لگیں کہ مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ طلحہ اور زبیر نے ان سے عرض کی ٹھہریے اللہ آپ پر رحم کرے۔ آپ کو آگے جانا چاہیے مسلمان آپ سے امید لگائے ہوئے ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا مجھے واپس ہی جانا چاہیے۔ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ایک روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کے بارے میں بتایا (کا حال ہوگا جب تم میں سے ایک پر حواب چشمے کے کتے بھونکیں گے)