hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38927

.

ابن أبي شيبة

38927
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۹۲۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی ، قَالَ : بَلَغَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، أَنَّ طَلْحَۃَ یَقُولُ : إنَّمَا بَایَعْت وَاللُّجُّ عَلَی قَفَایَ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ : أَمَّا وَاللُّجُّ عَلَی قَفَاہُ فَلاَ ، وَلَکِنْ قَدْ بَایَعَ وَہُوَ کَارِہٌ ، قَالَ : فَوَثَبَ النَّاسُ إلَیْہِ حَتَّی کَادُوا أَنْ یَقْتُلُوہُ ، قَالَ : فَخَرَجَ صُہَیْبٌ وَأَنَا إِلَی جَنْبِہِ فَالْتَفَتَ إلَیَّ ، فَقَالَ : قَدْ ظَنَنْت ، أَنَّ أُمَّ عَوْفٍ حَائِنَۃٌ۔
(٣٨٩٢٨) سعد بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی کو خبر ملی کہ حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے بیعت اس حالت میں کی کہ میری گدی پر تلوار تھی۔ حضرت علی نے عبداللہ ابن عباس کو بھیجا کہ وہ لوگوں سے اس خبر کی تصدیق کریں پس اسامہ بن زید نے فرمایا کہ تلوار کے بارے میں مں نہیں جانتا لیکن انھوں نے بیعت ناپسندیدگی سے کی ہے لوگ ان کی طرف ایسے جھپٹے قریب تھا کہ ان کو قتل کردیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت صہیب نکلے اس حال میں کہ میں ان کے ایک جانب میں تھا۔ پس انھوں نے میری طرف دیکھا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ام عوف سخت برہم ہے۔