(۳۸۹۳۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِیُّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا انْہَزَمَ أَہْلُ الْجَمَلِ ، قَالَ عَلِیٌّ : لاَ یَطْلُبَنَّ عَبْدٌ خَارِجًا مِنَ الْعَسْکَرِ ، وَمَا کَانَ مِنْ دَابَّۃٍ ، أَوْ سِلاَحٍ فَہُوَ لَکُمْ وَلَیْسَ لَکُمْ أُمُّ وَلَدٍ وَالْمَوَارِیثُ عَلَی فَرَائِضِ اللہِ ، وَأَیُّ امْرَأَۃٍ قُتِلَ زَوْجُہَا فَلْتَعْتَدَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ، قَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، تَحِلُّ لَنَا دِمَاؤُہُمْ وَلاَ تَحِلُّ لَنَا نِسَاؤُہُمْ ، قَالَ : فَخَاصَمُوہ ، فَقَالَ : کَذَلِکَ السِّیرَۃُ فِی أَہْلِ الْقِبْلَۃِ ، قَالَ : فَہَاتُوا سِہَامَکُمْ وَاقْرَعُوا عَلَی عَائِشَۃَ فَہِیَ رَأْسُ الأَمْرِ وَقَائِدُہُمْ ، قَالَ: فَعَرَفُوا وَقَالُوا : نَسْتَغْفِرُ اللَّہَ ، قَالَ : فَخَصَمَہُمْ عَلِیٌّ۔
(٣٨٩٣٥) ابو بختری سے روایت ہے کہ جب اہل جمل (حضرت عائشہ کا لشکر) شکست کھاچکا تو حضرت علی نے فرمایا کوئی آدمی لشکر سے باہر کسی کی تلاش نہ کرے (یعنی شکست کھانے والوں کا پیچھا نہ کرے) جو سواری یا ہتھیار یہاں سے ملے ہیں وہ تمہارا ہے لیکن تمہارے لیے کوئی ام ولد نہیں (یعنی کوئی باندی تمہارے لیے نہیں) اور وراثتیں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی اور جس عورت کا خاوند فوت ہوچا ہے وہ اپنی عدت چار مہینے دس دن (آزاد عورت کی طرح) پوری کرے۔ حضرت علی سے ان کے لشکر والے کہنے لگے اے امیر المومنین آپ ان کا مال ہمارے لیے حلال کرتے ہیں مگر ان کی عورتیں حلال نہیں کرتے۔ پس لشکر والے حضرت علی پر غالب آگئے۔ آپ نے فرمایا اہل قبلہ کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں پھر فرمایا لاؤ اپنے تیر مجھے دو اور سب سے پہلے قرعہ حضرت عائشہ پر ڈالو وہ کس کے حصے میں آتی ہں ر (جو تمہاری سب کی ماں ہے) کیونکہ وہ لشکر کی قائد تھیں۔ پس یہ سن کر وہ منتشر ہوگئے اور اللہ سے مغفرت کرنے لگے۔ پس حضرت علی ان پر غالب آگئے حجت اور دلیل میں (یعنی مسلمانوں کی عورتوں کو باندی نہیں بنایا جاسکتا)