(۳۸۹۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سعید، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ عَلِیٌّ مِنَ الْجَمَلِ وَتَہَیَّأَ لِصِفِّینَ اجْتَمَعَ النَّخَعُ حَتَّی دَخَلُوا عَلَی الأَشْتَرِ ، فَقَالَ : ہَلْ فِی الْبَیْتِ إِلاَّ نَخَعِیٌّ ؟ فَقَالُوا : لاَ، فَقَالَ: إِنَّ ہَذِہِ الأُمَّۃُ عَمَدَتْ إِلَی خَیْرِہَا فَقَتَلَتْہُ ، وَسِرْنَا إِلَی أَہْلِ الْبَصْرَۃِ قَوْمٌ لَنَا عَلَیْہِمْ بَیْعَۃٌ فَنُصِرْنَا عَلَیْہِمْ بِنَکْثِہِمْ، وَإِنَّکُمْ تَسِیرُونَ غَدًا إِلَی أَہْلِ الشَّامِ قَوْمٌ لَیْسَ لَکُمْ عَلَیْہِمْ بَیْعَۃٌ، فَلْیَنْظُرَ امْرُؤٌ مِنْکُمْ أَیْنَ یَضَعُ سَیْفَہُ۔
(٣٨٩٣٩) عمیر بن سعد سے روایت ہے کہ جب حضرت علی جنگ جمل سے واپس لوٹے تو جنگ صفین کی تیاری شروع فرمائی نخعی قبیلہ والے جمع ہوئے اور اشتر کے پاس آئے۔ اس نے کہا گھر میں نخعی کے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا نہیں۔ پھر کہنے لگا اس امت نے اپنے بہترین انسان کا قصد کیا اور اس کو قتل کرڈالا۔ ہم اہل بصرہ کی طرف گئے وہ ایسی قوم تھی جس نے ہماری بیعت کی ہوئی تھی پس ان کے بیعت توڑنے کی وجہ سے ہماری مدد کی گئی اور کل تم ایسی قوم کی طرف جانے والے ہو جو شام کے رہنے والے ہیں اور انھوں نے ہماری بیعت نہیں کی ۔ پس تم میں سے ہر آدمی دیکھ لے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔