(۳۸۹۴۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، عَنْ عَبْدِالْجَبَّارِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْہَجَنَّعِ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: قیلَ لَہُ: مَا مَنَعَک أَنْ تَکُونَ قَاتَلْت عَلَی بُصَیْرتک یَوْمَ الْجَمَلِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: یَخْرُجُ قَوْمٌ ہَلْکَی لاَ یُفْلِحُونَ، قَائِدُہُمُ امْرَأَۃٌ، قائدہُمْ فِی الْجَنَّۃِ۔(مسند ۴۴۰۸)
(٣٨٩٤١) ابو بکرہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے کہا آپ کو جنگ جمل کے دن کس شئے نے منع کیا قتا ل میں شرکت سے اہل بصرہ کی طرف سے ؟ تو انھوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ایک ہلاک ہونے والی قوم نکلے گی جو کامیاب نہ ہوگی ان کی سردار ایک عورت ہوگی پھر فرمایا وہ جنت میں ہوں گے۔