(۳۸۹۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، قَالَ : أَرْسَلَنِی عَلِیٌّ إِلَی طَلْحَۃَ وَالزُّبَیْرِ یَوْمَ الْجَمَلِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَہُمَا : إِنَّ أَخَاکُمَا یُقْرِئُکُمَا السَّلاَمَ وَیَقُولُ لَکُمَا: ہَلْ وَجَدْتُمَا عَلَیَّ حَیْفًا فِی حُکْمٍ ، أَوِ اسْتِئْثَار بِفَیْئٍ ، أَوْ بِکَذَا ، أَوْ بِکَذَا ، قَالَ : فَقَالَ الزُّبَیْرُ : لاَ فِی وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا ، وَلَکِنْ مَعَ الْخَوْفِ شِدَّۃُ الْمَطَامِعِ۔
(٣٨٩٤٧) حضرت عباس سے روایت ہے کہ مجھے حضرت علی نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی طرف جنگ جمل کے دن بھیجا۔ میں نے ان سے کہا آپ دونوں کے بھائی آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ دونوں کو کہہ رہے ہیں کیا تم نے مجھے کسی حکم میں ظلم کرتے ہوئے پایا یا اس طرح کی کوئی اور بات ہے ؟ حضرت زبیر نے فرمایا ان میں سے کوئی نہیں مگر خوف کے ساتھ ان کے اندر لالچ بھی ہے۔