hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38966

.

ابن أبي شيبة

38966
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۹۶۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ نُضَیْلَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلِیًّا یَوْمَ الْجَمَلِ ، وَعِنْدَہُ الْحَسَنُ وَبَعْضُ أَصْحَابِہِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ حِینَ رَآنِی : یَا ابْنَ صُرَدٍ ، تَنَأْنَأْت وَتَزَحْزَحْتَ وَتَرَبَّصْت ، کَیْفَ تَرَی اللَّہَ صَنَعَ ، قَدْ أَغْنَی اللَّہُ عَنْک ، قُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّ الشَّوْطَ بَطِینُ وَقَدْ بَقِیَ مِنَ الأُمُورِ مَا تَعْرِفُ فِیہَا عَدُوَّک مِنْ صِدِّیقِکَ ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ الْحَسَنُ لَقِیتہ ، فَقُلْتُ: مَا أَرَاک أَغْنَیْت عَنِّی شَیْئًا وَلاَ عَذَرْتنِی عِنْدَ الرَّجُلِ، وَقَدْ کُنْت حَرِیصًا عَلَی أَنْ تَشْہَدَ مَعَہُ، قَالَ: ہَذَا یَلُومُک عَلَی مَا یَلُومُک ، وَقَدْ قَالَ لِی یَوْمَ الْجَمَلِ: حین مَشَی النَّاسُ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ : یَا حَسَنُ ثَکِلَتْک أُمُّک ، أَوْ ہَبِلَتْک أُمُّک مَا ظَنُّک بِأَمْرِی جَمَعَ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْغَارَّیْنِ ، وَاللہِ مَا أَرَی بَعْدَ ہَذَا خَیْرًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : اُسْکُتْ ، لاَ یَسْمَعُک أَصْحَابُک ، فَیَقُولُوا : شَکَکْت ، فَیَقْتُلُونَک۔ (نعیم بن حماد ۲۰۷)
(٣٨٩٦٧) سلیمان بن صرد سے منقول ہے کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل کے دن حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس حضرت حسن اور ان کے بعض ساتھی بھی تھے حضرت علی نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا اے ابن صرد کمزور اور ڈھیلے پڑگئے اور پیچھے ٹھہر گئے۔ اللہ کے ساتھ تمہارا کیا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بےنیاز کردیا میں نے کہا اے امیر المومنین معاملہ بڑا سخت ہوگیا۔ معاملات ایسے ہوگئے ہیں کہ آپ کے دوست اور دشمن میں امتیاز مشکل ہوچکا کہتے ہیں کہ جب حضرت حسن کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا آپ نے میری ذرا بھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی عذراسی شخص (حضرت علی ) کے پاس کیا ؟ حالانکہ میں اس بات کا متمنی تھا ان کے پاس میری گواہی ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا انھوں نے (حضرت علی ) جو ملامت آپ پر کرنی تھی سو وہ کی۔ حالانکہ مجھے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف جا رہے ہیں اے حسن تیری ماں تجھے گم کرے ! تیرا میرے اس معاملے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ دونوں لشکر آمنے سامنے ہیں اللہ کی قسم میں اس کے بعد خیر نہیں دیکھتا۔ میں نے کہا آپ خاموش ہوجائیے آپ کے ساتھی نہ سن لیں پس کہنے لگیں کہ تو نے معاملہ مشکوک کردیا اور تجھے قتل کردیں۔