(۳۸۹۷۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أبی الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَۃَ دَخَلَ بَیْتَ الْمَالِ ، فَإِذَا ہُوَ بِصَفْرَائَ وَبَیْضَائَ ، فَقَالَ : یَقُولُ اللہ : {وَعَدَکُمَ اللَّہُ مَغَانِمَ کَثِیرَۃً تَأْخُذُونَہَا فَعَجَّلَ لَکُمْ ہَذِہِ} {وَأُخْرَی لَمْ تَقْدِرُوا عَلَیْہَا قَدْ أَحَاطَ اللَّہُ بِہَا} فَقَالَ : ہَذَا لَنَا۔
(٣٨٩٧٠) حضرت اسود سے روایت ہے کہ زبیر بن عوام جب بصرہ تشریف لائے بیت المال میں داخل ہوئے وہاں سونے چاندی کے ڈھیر تھے پھر فرمایا ” وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت غنیمتوں کا کہ تم ان کو لوگے، سو جلدی پہنچا دی تم کو یہ غنیمت “ (الفتح ٢١) اور ایک فتح اور جو تمہارے بس میں نہیں تھی وہ اللہ کے قابو میں ہے۔ پھر فرمایا یہ ہمارے لیے ہے۔