(۳۹۰۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ عَلِیٌّ مِنْ صِفِّینَ عَلِمَ أَنَّہُ لاَ یَمْلِکُ أَبَدًا ، فَتَکَلَّمَ بِأَشْیَائَ کَانَ لاَ یَتَکَلَّمُ بِہَا ، وَحَدَّثَ بِأَحَادِیثَ کَانَ لاَ یَتَحَدَّثُ بِہَا ، فَقَالَ فِیمَا یَقُولُ : أَیُّہَا النَّاسُ، لاَ تَکْرَہُوا إمَارَۃَ مُعَاوِیَۃَ، وَاللہِ لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُوہُ لَقَدْ رَأَیْتُمُ الرُّؤُوسَ تَنْزُو مِنْ کَوَاہِلِہَا کَالْحَنْظَلِ۔
(٣٩٠٠٩) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی صفین سے واپس آئے تو انھیں احساس ہوگیا تھا کہ وہ کبھی غالب نہ آئیں گے، لہٰذا انھوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جو پہلے کبھی نہ کی تھیں اور فرمایا کہ اے لوگو ! تم معاویہ کی امارت کو ناپسند نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے انھیں کھو دیا تو سر گردنوں سے ایسے گریں گے جیسے حنظل گرتا ہے۔