(۳۹۰۲۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ قُدَامَۃَ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُمَر بْنُ شُعَیْبٍ ، أَخُو عَمْرو بْنُ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ النَّاسُ أَیْدِیَہُمْ عَنْ صِفِّینَ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ:
شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْت لَہَا
مُفْرِعَ الْحَارِکِ مَلْوِیَّ الثَّبَجْ
یَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ فَإِذَا
وَنَتِ الْخَیْلُ مِنَ الثَّجِّ مَعَجْ
جُرْشُعٌ أَعْظَمُہُ جُفْرَتُہُ
فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَائِ حدج
قالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو شِعرًا:
لَوْ شَہِدَتْ جُمْلٌ مَقَامِی
بِصِفِّینَ یَوْمًا شَابَ مِنْہَا الذَّوَائِبُ
عَشِیَّۃَ جَائَ أَہْلُ الْعِرَاقِ کَأَنَّہُمْ
سَحَابُ رَبِیعٍ رَفَّعَتْہُ الْجَنَائِبُ
وَجِئْنَاہُمْ نُرْدِی کَأَنَّ صُفُوفَنَا
مِنَ الْبَحْرِ مَدٌّ مَوْجُہُ مُتَرَاکِبُ
فَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاہُمْ
سَرَاۃَ النَّہَارِ مَا تُوَلَّی الْمَنَاکِبُ
إذَا قُلْتَ قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا
کَتَائِبُ مِنْہُمْ فَارْجَحَنَّتْ کَتَائِبُ
فَقَالُوا لَنَا : إنَّا نَرَی أَنْ تُبَایِعُوا
عَلِیًّا فَقُلْنَا بَلْ نَرَی أَنْ تُضَارِبوا
(٣٩٠٢٢) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جب صفین میں لوگوں نے حملے کے لیے ہاتھ بلند کئے تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ اشعار کہے : (ترجمہ) لڑائی نے زور پکڑ لیا، میں نے اس لڑائی کے لیے ایک بہادر اور اعلیٰ نسل کا گھوڑا تیار کیا ہے۔ وہ سختی کا مقابلہ سختی سے کرتا ہے اور جب گھڑ سوار ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو وہ اور توانا ہوجاتا ہے، وہ تیز رفتار ہے اور بڑا ہے، جب پانی سے تر ہوجائے تو اور چست ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرو نے شعر کہے : (ترجمہ) اگر جوان صفین میں میرے کھڑے ہونے کو دیکھ لیں تو ان کے بال سفید ہوجائیں۔ یہ وہ رات تھی جب اہل عراق بادلوں کی طرح آئے تھے۔ اس وقت ہماری صفیں سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھیں۔ ان کی چکی بھی گھومی اور ہماری چکی بھی گھومی اور ہمارے کندھے ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ جب میں کہتا کہ وہ بھاگ گئے تو ان کی ایک جماعت اچانک آکر حملہ کردیتی۔ وہ ہم سے کہتے تھے کہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرو اور ہم کہتے تھے کہ تم لڑائی کرو۔