hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 39027

.

ابن أبي شيبة

39027
Ibn Abi Shaybah
(۳۹۰۲۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ الْجَرْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : إنِّی لَخَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ إذْ رَأَیْت ابْنَ عَبَّاسٍ حِینَ جَائَ مِنْ عِنْدِ مُعَاوِیَۃَ فِی أَمْرِ الْحَکَمَیْنِ فَدَخَلَ دَارَ سُلَیْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ فَدَخَلْت مَعَہُ ، فَمَا زَالَ یُرْمَی إلَیْہِ بِرَجُلٍ ، ثُمَّ رَجُل بَعْدَ رَجُلٍ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ کَفَرْت وَأَشْرَکْت وَنَدَّدْت ، قَالَ اللَّہُ فِی کِتَابِہِ کَذَا ، وَقَالَ اللَّہُ کَذَا ، وَقَالَ اللَّہُ کَذَا حَتَّی دَخَلَنِی مِنْ ذَلِکَ ، قَالَ : وَمَنْ ہُمْ ، ہُمْ وَاللہِ السِّنُّ الأُوَلُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ، ہُمْ وَاللہِ أَصْحَابُ الْبَرَانِسِ وَالسَّوَارِی ۔ ۲۔ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : انْظُرُوا أَخْصَمَکُمْ وَأَجْدَلَکُمْ وَأَعْلَمَکُمْ بِحُجَّتِکُمْ ، فَلْیَتَکَلَّمْ ، فَاخْتَارُوا رَجُلاً أَعْوَرَ یُقَالُ لَہُ : عَتَّابٌ مِنْ بَنِی تَغْلِبَ ، فَقَامَ ، فَقَالَ : قَالَ اللَّہُ کَذَا ، وَقَالَ اللَّہُ کَذَا کَأَنَّمَا یَنْزِعُ بِحَاجَتِہِ مِنَ الْقُرْآنِ فِی سُورَۃٍ وَاحِدَۃٍ ۔ ۳۔ قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إنِّی أَرَاک قَارِئًا لِلْقُرْآنِ عَالِمًا بِمَا قَدْ فَصَّلْت وَوَصَلْت ، أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، ہَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَہْلَ الشَّامِ سَأَلُوا الْقَضِیَّۃَ فَکَرِہْنَاہَا وَأَبَیْنَاہَا ، فَلَمَّا أَصَابَتْکُمَ الْجِرَاحُ وَعَضَّکُمَ الأَلَمُ وَمُنِعْتُمْ مَائَ الْفُرَاتِ أَنْشَأْتُمْ تَطْلُبُونَہَا ، وَلَقَدْ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ أَنَّہُ أُتِیَ بِفَرَسٍ بَعِیدِ الْبَطْنِ مِنَ الأَرْضِ لِیَہْرُبَ عَلَیْہِ ، حتی أَتَاہُ آتٍ مِنْکُمْ ، فَقَالَ : إنِّی تَرَکْت أَہْلَ الْعِرَاقِ یَمُوجُونَ مِثْلَ النَّاسِ لَیْلَۃَ النَّفْرِ بِمَکَّۃَ ، یَقُولُونَ مُخْتَلِفِینَ فِی کُلِّ وَجْہٍ مِثْلُ لَیْلَۃِ النَّفْرِ بِمَکَّۃَ ۔ ۴۔ قَالَ: ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنْشُدُکُمْ بِاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ، أَیَّ رَجُلٍ کَانَ أَبُو بَکْرٍ؟ فَقَالُوا: خَیْرًا وَأَثْنَوْا، فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالُوا خَیْرًا وَأَثْنَوْا ، فَقَالَ : أَفَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلاً خَرَجَ حَاجًّا ، أَوْ مُعْتَمِرًا فَأَصَابَ ظَبْیًا ، أَوْ بَعْضَ ہَوَامِّ الأَرْضِ فَحَکَمَ فِیہِ أَحَدُہُمَا وَحْدَہُ ، أَکَانَ لَہُ ، وَاللَّہُ یَقُولُ {یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ} فَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ مِنْ أَمْرِ الأُمَّۃِ أَعْظَمُ ، یَقُولُ : فَلاَ تُنْکِرُوا حَکَمَیْنِ فِی دِمَائِ الأُمَّۃِ ، وَقَدْ جَعَلَ اللَّہُ فِی قَتْلِ طَائِرٍ حَکَمَیْنِ، وَقَدْ جَعَلَ بَیْنَ اخْتِلاَفِ رَجُلٍ وَامْرَأَتِہِ حَکَمَیْنِ لإِقَامَۃِ الْعَدْلِ وَالإِنْصَافِ بَیْنَہُمَا فِیمَا اخْتَلَفَا فِیہِ۔
(٣٩٠٢٨) حضرت کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے باہر تھا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس کو دیکھا، وہ حاکموں کے معاملے میں حضرت معاویہ کے پاس سے واپس آرہے تھے۔ وہ حضرت سلیمان بن ربیعہ کے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ انھیں ایک آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا اور کہا کہ اے ابن عباس ! تم نے کفر کیا، تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ کا ہم سر ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ فرماتا ہے، یہ فرماتا ہے اور یہ فرماتا ہے۔ راوی سے پوچھا گیا کہ وہ کون تھے ؟ انھوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جلیل القدر صحابہ تھے۔
(٢) حضرت عبداللہ بن عباس نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم اپنے میں سے سب سے زیادہ عالم اور سب سے بڑے مناظر کا انتخاب کرلو وہ مجھ سے بات کرے۔ انھوں نے ایک کانے شخص کا انتخاب کیا جن کا نام عتاب تھا اور وہ بنو تغلب سے تھے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ گویا وہ اپنی ضرورت کو قرآن کی ایک سورت سے ثابت کررہے تھے۔
(٣) ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں آپ کو قرآن کا عالم سمجھتا ہوں، کیونکہ آپ نے بہت وضاحت سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ میں آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شام والوں نے فیصلے کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسے ناپسند کیا اور انکار کیا۔ پھر جب تمہیں زخم پہنچے، الم پہنچے اور تمہیں فرات کے پانی سے محروم کیا گیا تو تم نے فیصلے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ؟ مجھے حضرت معاویہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک پتلی کمر والا گھوڑا لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہو کر بھاگ جائیں یہاں تک کہ تم میں سے کوئی آنے والا آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اہل عراق کو ان لوگوں کی طرح چھوڑ دیا ہے جو مکہ میں نفر کی رات ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔
(٤) پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابوبکر کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ عمر بن خطاب کیسے آدمی تھے ؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر ابن عباس نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے لیے جائے اور کسی ہرن یا وہاں کے حشرات میں سے کسی کو مار ڈالے اور خود فیصلہ کرلے تو کیا اس کا فیصلہ معتبر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ ) جبکہ تمہارا جس معاملے میں اختلاف ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے لیے پرندے کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں، آدمی اور اس کی بیوی کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں تو تمہارے اختلاف میں جو ان سے بڑا ہے دو حاکم کیوں نہیں ہوسکتے۔