(۳۹۰۵۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ الْخَوَارِجِ فَرَأَیْتُ مِنْہُمْ شَیْئًا کَرِہْتہ ، فَفَارَقْتہمْ عَلَی أَنْ لاَ أُکْثِرَ عَلَیْہِمْ ، فَبَیْنَا أَنَا مَعَ طَائِفَۃٍ مِنْہُمْ إذْ رَأَوْا رَجُلاً خَرَجَ کَأَنَّہُ فَزِعٌ ، وَبَیْنَہُمْ وَبَیْنَہُ نَہْرٌ ، فَقَطَعُوا إلَیْہِ النَّہْرَ ، فَقَالُوا : کَأَنَّا رُعْنَاک ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالُوا : وَمَنْ أَنْتَ ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالُوا : عِنْدَک حَدِیثٌ تُحَدِّثُنَاہُ ، عَنْ أَبِیک ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : حدثنی أبی عن رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فِتْنَۃً جَائِیَۃً ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، فَإِذَا لَقِیتَہُمْ فَإِنَ اسْتَطَعْت أَنْ تَکُونَ عَبْدَ اللہِ الْمَقْتُولَ فَلاَ تَکُنْ عَبْدَ اللہِ الْقَاتِلَ ، قَالَ : فَقَرَّبُوہُ إِلَی النَّہَرِ فَضَرَبُوا عُنُقہ فَرَأَیْتُ دَمَہُ یَسِیلُ عَلَی الْمَائِ کَأَنَّہُ شِرَاکٌ مَا ابْذَقَرَّ بِالْمَائِ حَتَّی تَوَارَی عَنْہُ ، ثُمَّ دَعَوْا بِسُرِّیَّۃٍ لَہُ حُبْلَی فَبَقَرُوا عَمَّا فِی بَطْنِہَا۔ (احمد ۱۱۰۔ دارقطنی ۱۳۲)
(٣٩٠٥١) بنو عبد القیس کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں خوارج کے ساتھ تھا کہ میں نے ان میں ایسی چیزوں کو دیکھا جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لہٰذا میں نے ان سے جدائی کا فیصلہ کرلیا۔ میں ابھی انہی کی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے اور ان کے درمیان نہر حائل تھی۔ انھوں نے اس آدمی کو پکڑنے کے لیے نہر عبور کی اور کہا کہ شاید ہم نے تمہیں ڈرا دیا۔ اس نے کہا ہاں کچھ یونہی ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس آدمی نے کہا کہ میں عبداللہ بن خباب بن ارت ہوں۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایک حدیث ہے جو تم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہو۔ انھوں نے فرمایا کہ ہاں میرے والد نے مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کیا کہ فتنہ آنے والا ہے۔ اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر تم اللہ کے مقتول بندے بن سکو تو بن جانا لیکن اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ پھر وہ لوگ حضرت عبداللہ بن خباب کو نہر کے قریب لے گئے اور ان کی گردن کاٹ ڈالی۔ میں نے ان کے خون کو نہر کی لہروں پر بہتے ہوئے دیکھا ، پھر انھوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کی ایک حاملہ باندی کو بلایا اور اس کے پیٹ کو چاک کرڈالا۔