(۳۹۰۵۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ قَیْسٍ الْحَضْرَمِیُّ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیٌّ بِالْمَدَائِنِ بِقَنْطَرَۃِ الدّیزجَان ، فَقَالَ : قَدْ ذُکِرَ لِی ، أَنَّ خَارِجَۃً تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِیہِمْ ذُو الثُّدَیَّۃِ ، وَإِنِّی لاَ أَدْرِی أَہُمْ ہَؤُلاَئِ أَمْ غَیْرُہُمْ ، قَالَ : فَانْطَلَقُوا یُلْقِی بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، فَقَالَتِ الْحَرُورِیَّۃُ : لاَ تُکَلِّمُوہُمْ کَمَا کَلَّمْتُمُوہُمْ یَوْمَ حَرُورَائَ ، فَکَلَّمُوہُم ، فَرَجَعْتُمْ ، قَالَ : فَشَجَرَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا بِالرِّمَاحِ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ عَلِیٍّ : قَطِّعُوا الْعَوَالِیَ ، قَالَ : فَاسْتَدَارُوا فَقَتَلُوہُمْ وَقُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِیٍّ اثْنَا عَشَرَ ، أَوْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ، فَقَالَ : الْتَمِسُوہُ ، فَالْتَمَسُوہُ فَوَجَدُوہُ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا کَذَبْت وَلاَ کُذِّبْت ، اعْمَلُوا وَاتَّکِلُوا ، فَلَوْلاَ أَنْ تَتَّکِلُوا لأَخْبَرْتُکُمْ بِمَا قَضَی اللَّہُ لَکُمْ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ شَہِدَنَا نَاسٌ بِالْیَمَنِ ، قَالُوا : کَیْفَ ذَاکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ : کَانَ ہُدَاہُمَ مَعَنا۔ (مسلم ۷۴۸۔ ابوداؤد ۴۷۳۵)
(٣٩٠٥٣) حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی نے دیزجان کے پل پر مدائن میں ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں آپ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ ایک جماعت مشرق کی طرف سے خروج کرنے والی ہے ان میں ذوالثدیہ بھی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ وہی لوگ ہیں یا کوئی اور ہیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہوئے چلے، حروریہ نے کہا کہ ان سے اس طرح بات نہ کرنا جس طرح تم نے ان سے حروراء کے دن بات کی تھی۔ پھر انھوں نے ان سے بات کی اور تم لوٹ گئے۔ پھر ان کے درمیان نیزے چلنے لگے۔ حضرت علی کے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ نیزوں کو کاٹ دو اور پھر وہ گھوم کر آئے اور ان سے قتال کیا۔ پھر حضرت علی کے ساتھیوں میں سے بارہ یا تیرہ لوگ شہید ہوئے ۔ پھر انھوں نے کہا کہ اسے تلاش کرو، انھوں نے اسے تلاش کیا اور پالیا۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم نہ تو نے جھوٹ بولا اور نہ تجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ عمل کرتے رہو اور پر امید نہ ہو۔ اگر تم امید پر سہارا نہ لگا لو تو میں تمہیں وہ بات بتادوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان فیض ترجمان سے جاری فرمائی ہے۔ پھر فرمایا کہ ہمارے ساتھ یمن کے بھی کچھ لوگ تھے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کیسے اے امیر المومنین ! آپ نے فرمایا کہ ان کی خواہشات ہمارے ساتھ تھیں۔