hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 39054

.

ابن أبي شيبة

39054
Ibn Abi Shaybah
(۳۹۰۵۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ الْحَنَفِیِّ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَتِ الْحُکُومَۃُ بِصِفِّینَ وَبَایَنَ الْخَوَارِجُ عَلِیًّا رَجَعُوا مُبَایِنِینَ لَہُ ، وَہُمْ فِی عَسْکَرٍ ، وَعَلِیٌّ فِی عَسْکَرٍ ، حَتَّی دَخَلَ عَلِیٌّ الْکُوفَۃَ مَعَ النَّاسِ بِعَسْکَرِہِ ، وَمَضَوْا ہُمْ إِلَی حَرُورَائَ فِی عَسْکَرِہِمْ ، فَبَعَثَ عَلِیٌّ إلَیْہِمَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَکَلَّمَہُمْ فَلَمْ یَقَعْ مِنْہُمْ مَوْقِعًا ، فَخَرَجَ عَلِیٌّ إلَیْہِمْ فَکَلَّمَہُمْ حَتَّی أَجْمَعُوا ہُمْ وَہُوَ عَلَی الرِّضَا ، فَرَجَعُوا حَتَّی دَخَلُوا الْکُوفَۃَ عَلَی الرِّضَا مِنْہُ وَمِنْہُمْ ، فَأَقَامُوا یَوْمَیْنِ ، أَوْ نَحْوَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَیْسٍ وَکَانَ یَدْخُلُ عَلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ یَتَحَدَّثُونَ أَنَّک رَجَعَتْ لَہُمْ عَنْ کُفرْۃٍ ، فَلَمَّا أَنْ کَانَ الْغَدُ وَالْجُمُعَۃُ صَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، فَخَطَبَ ، فَذَکَّرَہُمْ وَمُبَایَنَتَہُمَ النَّاسَ وَأَمْرَہُمَ الَّذِی فَارَقُوہُ فِیہِ ، فَعَابَہُمْ وَعَابَ أَمْرَہُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ تَنَادَوْا مِنْ نَوَاحِی الْمَسْجِدِ لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : حُکْمُ اللہِ أَنْتَظِرُ فِیکُمْ ، ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ ہَکَذَا یُسْکِنُہُمْ بِالإِشَارَۃِ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ حَتَّی أَتَاہ رَجُلٌ مِنْہُمْ وَاضِعًا إصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ : {لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ}۔
(٣٩٠٥٥) حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ جب حکومت صفین میں تھی، اور خوارج نے حضرت علی کو چھوڑ دیا اور انھیں چھوڑ کر چلے گئے۔ تو خوارج ایک لشکر میں تھے اور حضرت علی دوسرے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ واپس آگئے اور وہ اپنے لشکر میں حروراء چلے گئے تو حضرت علی نے ان کی طرف حضرت ابن عباس کو بھیجا لیکن انھوں نے کوئی گنجائش نہ پائی۔ پھر حضرت علی ان سے گفتگو کے لیے تشریف لیے گئے اور ان سے بات چیت ہوئی اور سب آپس میں راضی ہوگئے۔ اور کوفہ واپس آگئے۔ یہ رضامندی دو یا تین دن قائم رہی۔
پھر اشعث بن قیس آئے جو کہ حضرت علی کے پاس اکثر آیا کرتے تھے اور انھوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے کہ آپ نے ان سے ان کے کفر کے باوجود رجوع کرلیا۔ اگلے دن یا جمعہ کے دن حضرت علی منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور خطبہ میں انھیں نصیحت فرمائی۔ لوگوں سے ان کے الگ ہونے کا تذکرہ کیا، جس چیز میں انھوں نے مفارقت کی اس کا انھیں حکم دیا، حضرت علی نے ان کی اور ان کے طریقہ کار کی مذمت فرمائی۔ جب وہ منبر سے نیچے تشریف لائے تو مسجد کے کونوں سے آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ! حضرت علی نے فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہوں۔ پھر منبر پر انھیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا۔ اتنے میں خارجیوں کا ایک آدمی اپنی انگلیاں کانوں پر رکھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے آیا { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ }۔