(۳۹۰۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی نَصْرِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَلِیٍّ فَذَکَرُوا أَہْلَ النَّہَرِ فَسَبَّہُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ عَلِیٌّ: لاَ تَسُبُّوہُمْ ، وَلَکِنْ إِنْ خَرَجُوا عَلَی إمَامٍ عَادِلٍ فَقَاتِلُوہُمْ ، وَإِنْ خَرَجُوا عَلَی إمَامٍ جَائِرٍ فَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ ، فَإِنَّ لَہُمْ بِذَلِکَ مَقَالاً۔
(٣٩٠٧١) بنو نصر بن معاویہ کے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت علی کے پاس حاضر تھے کہ خوارج کا ذکر چھڑ گیا۔ ایک آدمی نے انھیں گالی دی تو حضرت علی نے فرمایا کہ انھیں گالی مت دو ۔ اگر وہ امام عادل کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال کرو اور اگر وہ ظالم امام کے خلاف خروج کریں تو ان سے قتال نہ کرو۔ کیونکہ انھیں گفتگو کا حق ہے۔