(۳۹۰۷۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ أَبِی الْعَبَّاسِ ،
قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَیْلِ یُخْبِرُ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَذَکَرَ ذَا الثُّدَیَّۃِ ، الَّذِی کَانَ مَعَ أَصْحَابِ النَّہَرِ ، فَقَالَ : شَیْطَانُ الرَّدْہَۃِ ، یَحْتَدِرُہُ رَجُلٌ مِنْ بَجِیلَۃَ ، یُقَالُ لَہُ : الأَشْہَبُ ، أَوِ ابْنُ الأَشْہَبِ ، عَلاَمَۃ فِی قَوْمٍ ظَلَمَۃٍ۔
فَقَالَ عَمَّارٌ الدُّہْنِیُّ ، حِینَ کَذَّبَ بِہِ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَجِیلَۃَ ، قَالَ : وَأَرَاہُ ، قَالَ: مِنْ دُہْنٍ، یُقَالُ لَہُ الأَشْہَبُ، أَوِ ابْنُ الأَشْہَبِ۔ (احمد ۱۷۹۔ ابویعلی ۷۸۰)
(٣٩٠٧٦) حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ذوالثدیہ کا تذکرہ کیا جو اصحاب نہر کے ساتھ تھا، آپ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ گڑھے کا شیطان ہے، اس قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی جس کا نام اشہب یا ابن اشہب ہوگا وہ اسے گڑھے میں پھینکے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہوگا۔ عمار جہنی نے بیان کیا کہ قبیلہ بجیلہ کا ایک آدمی آیا جس کا نام اشہب یا ابن اشہب تھا۔