(۳۹۰۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : بَیْنَمَا عَبْدُ اللہِ بْنُ خَبَّابٍ فِی یَدِ الْخَوَارِجِ إذْ أَتَوْا عَلَی نَخْلٍ ، فَتَنَاوَلَ رَجُلٌ مِنْہُمْ تَمْرَۃً فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُہُ ، فَقَالُوا لَہُ : أَخَذْت تَمْرَۃً مِنْ تَمْرِ أَہْلِ الْعَہْد ، وَأَتَوْا عَلَی خِنْزِیرٍ فَنَفَحَہُ رَجُلٌ مِنْہُمْ بِالسَّیْفِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُہُ ، فَقَالُوا لَہُ : قَتَلْت خِنْزِیرًا مِنْ خَنَازِیرِ أَہْلِ الْعَہْدِ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللہِ ، أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ ہُوَ أَعْظَمُ عَلَیْکُمْ حَقًّا مِنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : مَنْ ، قَالَ : أَنَا ، مَا تَرَکْت صَلاَۃً وَلاَ تَرَکْت کَذَا وَلاَ تَرَکْت کَذَا ، قَالَ : فَقَتَلُوہُ ، قَالَ : فَلَمَّا جَائَہُمْ عَلِیٌّ ، قَالَ : أَقِیدُونَا بِعَبْدِ اللہِ بْنِ خَبَّابٍ ، قَالُوا : کَیْفَ نُقِیدُک بِہِ وَکُلُّنَا قَدْ شَرَکَ فِی دَمِہِ ، فَاسْتَحَلَّ قِتَالَہُمْ۔
(٣٩٠٧٨) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن خباب خوارج کے قبضے میں تھے۔ اس وقت ان کا ایک آدمی کھجور کے ایک درخت کے پاس سے گزرا اور ایک کھجور اٹھا لی۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تو نے ایک ذمی کی کھجور اٹھا لی ہے ! پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے، ایک آدمی نے اسے تلوار ماری تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تو نے ایک ذمی کے خنزیر کو مار ڈالا ! اس پر حضرت عبداللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دونوں سے زیادہ حرمت والے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انھوں نے کہا کہ وہ کون ہے ؟ حضرت عبداللہ بن خباب نے فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ میں نے نماز نہیں چھوڑی، میں فلاں عمل نہیں چھوڑا اور فلاں عمل بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود بھی انھوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو شہید کردیا۔ جب حضرت علی ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ حضرت عبداللہ کے قاتل ہمارے حوالے کردو، تو انھوں نے کہا کہ ہم ان کے قاتل آپ کے حوالے کیسے کردیں حالانکہ ہم سب ان کے خون میں شریک ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی نے ان سے قتال کو حلال قرار دے دیا۔