(۳۹۰۸۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ نَمِرٍ ، قَالَ : بَیْنَا أَنَا فِی الْجُمُعَۃِ ، وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ عَلَی الْمِنْبَرِ إذْ قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ ، فَقَالَ : لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ، ثُمَّ قَامُوا مِنْ نَوَاحِی الْمَسْجِدِ یُحَکِّمُونَ اللَّہَ فَأَشَارَ عَلَیْہِمْ بِیَدِہِ : اجْلِسُوا ، نَعَمْ لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلَّہِ ، کَلِمَۃُ حَقٍّ یُبْتَغَی بِہَا بَاطِلٌ ، حُکْمُ اللہِ یُنْتَظَرُ فِیکُمْ ، الآنَ لَکُمْ عِنْدِی ثَلاَثُ خِلاَلٍ مَا کُنْتُمْ مَعَنَا ، لَنْ نَمْنَعُکُمْ مَسَاجِدَ اللہِ أَنْ یُذْکُرَ فِیہَا اسْمُہُ ، وَلاَ نَمْنَعُکُمْ فَیْئًا مَا کَانَتْ أَیْدِیکُمْ مَعَ أَیْدِینَا ، وَلاَ نُقَاتِلُکُمْ حَتَّی تُقَاتِلُونَا ، ثُمَّ أَخَذَ فِی خُطْبَتِہِ۔ (بیہقی ۱۸۴)
(٣٩٠٨٥) حضرت کثیر بن نمر فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے، حضرت علی منبر پر تھے کہ ایک آدمی اٹھا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم قبول نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ پھر مسجد کے گوشوں سے مختلف لوگ کھڑے ہو کر یہی نعرہ لگانے لگے۔ حضرت علی نے انھیں ہاتھ سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، لیکن یہ کلمہ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تمہارے لیے تین رعایتیں ہیں جب تک تم ہمارے ساتھ ہو، ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے منع نہیں کریں گے کہ ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے، ہم تمہیں فیء سے بھی محروم نہیں کریں گے جب تک ہمارے اور تمہارے ہاتھ اکٹھے ہیں، ہم تم سے اس وقت تک قتال نہیں کریں گے جب تک تم ہم سے قتال نہ کرو۔ پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کردیا۔