(۳۹۰۹۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَمَّا مَنَعَ عَلِیٌّ الْحَکَمَیْنِ ، قَالَ أَہْلُ الْحَرُورَائِ : مَا تُرِیدُ أَنْ نُجَامِعَ لِہَؤُلاَئِ ، فَخَرَجُوا فَأَتَاہُمْ إبْلِیسُ ، فَقَالَ : أَیْنَ کَانَ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمُ الَّذِینَ فَارَقْنَا مُسْلِمِینَ لَبِئْسَ الرَّأْیُ رَأْیُنَا ، وَلَئِنْ کَانُوا کُفَّارًا لَیَنْبَغِی لَنَا أَنْ نتناولہم ، قَالَ الْحَسَنُ : فَوَثَبَ عَلَیْہِمْ أَبُو الْحَسَنِ فَجَذَّہُمْ جَذًّا۔
(٣٩٠٩٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی نے دو حکم بنانے سے منع کیا تو اہل حروراء نے کہا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کو تیار نہیں اور وہ چلے گئے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور اس نے کہا کہ وہ قوم کہاں گئی جسے ہم نے مسلمان ہونے کی حالت میں چھوڑ دیا ؟ ہماری رائے تو بہت بری رائے تھی۔ اگر وہ کافر بھی ہوتے تب بھی ہمیں ان کو ساتھ رکھنا چاہیے تھا ! حضرت حسن فرماتے ہیں کہ پھر حضرت علی نے خوارج پر حملہ کردیا اور انھیں جڑ سے اکھیڑ دیا۔