(۴۰۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : صَلَّی عُمَرُ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَہُ النَّاسُ : إنَّک لَمْ تَقْرَأْ ، قَالَ : فَکَیْفَ کَانَ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ تَامٌّ ہُوَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : لاَ بَأْسَ ، إنِّی حَدَّثْت نَفْسِی بِعِیرٍ جَہَّزْتہَا بِأَقْتَابِہَا وَحَقَائِبِہَا۔
(٤٠٢٨) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مغرب کی نماز پڑھی لیکن اس میں قراءت نہ کی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ نے قراءت نہیں کی ہے ! حضرت عمرنے ان سے پوچھا کہ رکوع اور سجدے کیسے تھے ؟ کیا وہ پورے تھے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر کوئی حرج نہیں۔ میں اپنے دل میں ایک لشکر کی تیاری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔