(۴۰۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ ، قَالَ : صَلَّی عُمَرُ الْمَغْرِبَ فَلَمْ یَقْرَأْ فِیہَا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالُوا لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إنَّک لَمْ تَقْرَأْ ، فَقَالَ : إنِّی حَدَّثْت نَفْسِی وَأَنَا فِی الصَّلاَۃِ بِعِیرٍ وَجَّہْتہَا مِنَ الْمَدِینَۃِ ، فَلَمْ أَزَلْ أُجَہِّزُہَا حَتَّی دَخَلَتِ الشَّامَ ، قَالَ : ثُمَّ أَعَادَ الصَّلاَۃَ وَالْقِرَائَۃَ۔
(٤٠٣٤) حضرت ہمام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے مغرب کی نماز پڑھائی اور اس میں قراءت نہ کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ سے کہا اے امیر المؤمنین ! آپ نے قراءت نہیں کی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں دورانِ نماز اپنے دل میں ایک لشکر کے بارے میں سوچ رہا تھا جسے میں نے مدینہ سے روانہ کیا ہے، میں اس کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ شام میں کب داخل ہوگا۔ پھر آپ نے نماز اور قراءت کا اعادہ فرمایا۔