(۴۰۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَأَصْحَابُہُ یَنْتَظِرُونَہُ لِصَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ ، فَقَالَ : نَامَ النَّاسُ وَرَقَدُوا ، وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ الصَّلاَۃَ ، أَمَا إنَّکُمْ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوہَا ، وَلَوْلاَ ضَعْفُ الضَّعِیفِ وَکِبَرُ الْکَبِیرِ ، لَأَخَّرْتُ ہَذِہِ الصَّلاَۃَ إلَی شَطْرِ اللَّیْلِ۔ (ابو یعلی ۱۹۳۵۔ ابن حبان ۱۵۲۹)
(٤٠٨٦) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات تشریف لائے اور آپ کے صحابہ عشاء کی نماز کے ادا کرنے کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز کا انتظار کررہے ہو۔ جب سے تم نماز کے ادا کرنے کا انتظار کر رہے ہو تم نماز میں ہو۔ اگر کمزور کی کمزوری اور بوڑھے کے بڑھاپے کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کردیتا۔