(۴۰۹۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ الصَّلاَۃَ إلَی شَطْرِ اللَّیْلِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ یُصَلُّونَ وَیَنْکَفِئُونَ ، فَخَرَجَ وَقَدْ بَقِیَتْ عِصَابَۃٌ فَصَلَّی بِہِمْ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَیْہِم بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : إنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَإِنَّکُمْ لَمْ تَزَالُوا فِی صَلاَۃٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ ، قَالَ : فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَی وَبِیصِ خَاتَمِہِ فِی یَدِہِ۔ (بخاری ۸۴۷۔ مسلم ۲۲۲)
(٤٠٩٧) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا۔ بعض لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو جانا شروع کردیا۔ جب نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو کچھ لوگ مسجد میں موجود تھے، آپ نے انھیں نماز پڑھائی اور جب آپ نے سلام پھیرا تو اپنا رخ مبارک ان کی طرف پھیر کر فرمایا ” لوگوں نے نماز پڑھ لی اور وہ سو گئے، تم جب سے نماز کا انتظار کررہے ہو نماز کی حالت میں ہو “ حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہ منظر اس وقت بھی اس طرح میرے سامنے ہے کہ میں آپ کی انگوٹھی مبارک کی چمک ابھی بھی دیکھ رہا ہوں۔