(۴۱۰۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ عَنْتَرَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِہِم ، قَالَ : أَصَبْت أَنَا وَعَلْقَمَۃُ صَحِیفَۃً ، فَانْطَلَقْنَا بِہَا إلَی عَبْدِ اللہِ ، فَجَلَسْنَا بِالْبَابِ وَقَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ کَادَتْ تَزُولُ ، فَاسْتَیْقَظَ وَأَرْسَلَ الْجَارِیَۃَ ، فَقَالَ : اُنْظُرِی مَنْ بِالْبَابِ ، فَرَجَعَتْ إلَیْہِ ، فَقَالَتْ : عَلْقَمَۃُ وَالأَسْوَدُ ، فَقَالاَ : ائْذَنِی لَہُمَا ، فَدَخَلْنَا ، فَقَالَ : کَأَنَّکُمَا قَدْ أَطَلْتُمَا الْجُلُوسَ بِالْبَابِ ؟ قَالاَ : أَجَلْ ، قَالَ : فَمَا مَنَعَکُمَا أَنْ تَسْتَأْذِنَا ؟ قَالاَ: خَشِینَا أَنْ تَکُونَ نَائِمًا ، قَالَ : مَا کُنْت أُحِبُّ أَنْ تَظُنُّوا بِی ہَذَا ، إنَّ ہَذِہِ سَاعَۃٌ کُنَّا نُشَبِّہُہَا بِصَلاَۃِ اللَّیْلِ۔
(٤١٠١) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت علقمہ کو ایک صحیفہ ملا، ہم اسے لے کر حضرت عبداللہ کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ جب سورج زائل ہوگیا یا زائل ہونے کے قریب تھا تو وہ اٹھے اور اپنی باندی کو بھیجا کہ دیکھو دروازے پر کون ہے ؟ وہ واپس گئی اور اس نے بتایا کہ علقمہ اور اسود ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ انھیں میرے پاس آنے کی اجازت دے دو ۔ ہم حاضر ہوئے تو انھوں نے فرمایا کہ شاید تم کافی دیر سے دروازے پر بیٹھے ہو۔ ہم نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا تو تم نے اندر آنے کے لیے اجازت کیوں نہیں مانگی۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارا خیال تھا کہ کہیں آپ سو نہ رہے ہوں۔ انھوں نے فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ گمان نہ کرو ! یہ وہ گھڑی ہے جس وقت کی نماز کو ہم تہجد کی نماز سے تشبیہ دیتے تھے۔