(۴۱۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ أَبِی الْہُذَیْلِ، قَالَ: کَانَ شَیْخٌ مِنْ تِلْکَ الشُّیُوخِ یَؤُمُّ قَوْمَہُ ثُمَّ تَرَکَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَلَقِیَہُ بَعْضُ إِخْوَانِہِ ، فَقَالَ لَہُ : لِمَ تَرَکْت إمَامَۃَ قَوْمِکَ ؟ قَالَ : کَرِہْتُ أَنْ یَمُرَّ الْمَارُّ فَیَرَانِی أُصَلِّی فَیَقُولُ : مَا قَدَّمَ ہَؤُلاَء ہَذَا الرَّجُلَ إِلاَّ وَہُوَ خَیْرُہُمْ ، وَاللَّہِ لاَ أَؤُمُّہُمْ أَبَدًا۔
(٤١٤٣) حضرت عبداللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے صاحب لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے پھر انھوں نے نماز پڑھانی چھوڑ دی۔ ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نماز پڑھانی کیوں چھوڑ دی ؟ انھوں نے فرمایا کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کوئی شخص مجھے نماز پڑھاتے ہوئے دیکھے اور کہے کہ اس آدمی کو اس لیے آگے کیا گیا ہے کہ یہ سب سے افضل ہے۔ خدا کی قسم ! میں آئندہ نماز نہیں پڑھاؤں گا۔