(۴۳۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ؛ أَنَّ غُلاَمًا قَرَأَ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّجْدَۃَ ، فَانْتَظَرَ الْغُلاَمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَسْجُدَ ، فَلَمَّا لَمْ یَسْجُدْ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَیْسَ فِی ہَذِہِ السُّورَۃِ سَجْدَۃٌ ؟ قَالَ : بَلَی ، وَلَکِنَّک کُنْت إمَامَنَا فِیہَا ، فَلَوْ سَجَدْتَ لَسَجَدْنَا۔ (بیہقی ۳۲۴)
(٤٣٩٦) حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ ایک لڑکے نے نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیت سجدہ کی تلاوت کی۔ اس نے انتظار کیا کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ فرمائیں۔ جب آپ نے سجدہ نہ کیا تو وہ کہنے لگایا رسول اللہ ! کیا اس سورت میں سجدہ نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا اس سورت میں سجدہ تو ہے۔ البتہ تم اس بارے میں ہمارے امام تھے۔ اگر تم سجدہ کرتے تو ہم بھی سجدہ کرتے۔