hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 4409

.

ابن أبي شيبة

4409
Ibn Abi Shaybah
(۴۴۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِشَیْخَیْنِ یَقْرَأُ أَحَدُہُمَا عَلَی صَاحِبِہِ الْقُرْآنَ ، فَجَلَسْتُ إلَیْہِمَا فَإِذَا أَحَدُہُمَا قَیْسُ بْنُ سَکَنِ الأَسَدِیُّ ، وَالأَخَرُ یَقْرَأُ عَلَیْہِ سُورَۃَ مَرْیَمَ ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَۃَ ، قَالَ لَہُ قَیْسٌ : دَعْہَا ، فَإِنَّا نَکْرَہُ أَنْ یَرَانَا أَہْلُ الْمَسْجِدِ ، فَتَرَکَہَا وَقَرَأَ مَا بَعْدَہَا ، ثُمَّ قَالَ قیْسٌ : وَاللَّہِ مَا صَرَفَنَا عَنْہَا إِلاَّ الشَّیْطَانُ ، اقْرَأْہَا ، فَقَرَأَہَا فَسَجَدْنَا ، فَلَمَّا رَفَعْنَا رُؤُوسَنَا ، قَالَ لَہُ قَیْسٌ : تَدْرِی مَا کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إذَا سَجَدَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، کَانَ یَقُولُ : سَجَدَ وَجْہِی لِمَنْ خَلَقَہُ ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ ، قَالَ : صَدَقْت ، وَبَلَغَنِی أَنَّ دَاوُد عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ یَقُولُ : سَجَدَ وَجْہِی مُتَعَفِّرًا فِی التُّرَابِ لِخَالِقِی وَحُقَّ لَہُ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ ! مَا أَشْبَہَ کَلاَمَ الأَنْبِیَائِ بَعْضَہُم بِبَعض۔
(٤٤٠٩) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انھوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چنانچہ انھوں نے پڑھا اور ہم نے سجدہ کیا۔ جب ہم نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت قیس نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ تلاوت کرتے تھے تو کیا کہتے تھے ؟ انھوں نے کہا ہاں، رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہتے تھے (ترجمہ) میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت وبصار ت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت قیس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت داؤد اپنے سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے (ترجمہ) میرے چہرے نے مٹی میں لپٹتے ہوئے میرے خالق کو سجدہ کیا اور اس کا حق کے لیے وہ اس ذات کو سجدہ کرے۔ پھر فرمایا کہ سبحان اللہ ! انبیاء کا کلام ایک دوسرے کے کتنا مشابہ ہے۔