hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 4415

.

ابن أبي شيبة

4415
Ibn Abi Shaybah
(۴۴۱۵) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : قَرَأْتُ السَّجْدَۃَ وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَیْتِ فَکَیْفَ تَرَی ؟ قَالَ : آمُرُک أَنْ تَسْجُدَ ، قُلْتُ : إذَا تَرَکَنِی النَّاسُ وَہُمْ یَطُوفُونَ، فَیَقُولُونَ : مَجْنُونٌ ، أَفَأَسْتَطِیعُ أَنْ أَسْجُدَ وَہُمْ یَطُوفُونَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّہِ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِکَ لَقَدْ قَرَأَ ابْنُ الزُّبَیْرِ السَّجْدَۃَ فَلَمْ یَسْجُدْ ، فَقَامَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ فَقَرَأَ السَّجْدَۃَ ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، مَا مَنَعَک أَنْ تَسْجُدَ قُبَیْلُ حَیْثُ قَرَأْتَ السَّجْدَۃَ ؟ فَقَالَ : لأَیِّ شَیْئٍ أَسْجُدُ ؟ إنِّی لَوْ کُنْت فِی صَلاَۃٍ سَجَدْت ، فَأَمَّا إذَا لَمْ أَکُنْ فِی صَلاَۃٍ فَإِنِّی لاَ أَسْجُدُ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ عَطَائً عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : اسْتَقْبِلِ الْبَیْتَ وَأَوْمِیئْ بِرَأْسِک۔
(٤٤١٥) حضرت حاتم بن ابی صغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے سوال کیا کہ اگر میں دورانِ طواف آیت سجدہ پڑھوں تو سجدہ کروں یا نہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں تمہیں سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر لوگ دورانِ طواف مجھے سجدہ کرتے دیکیں ص گے تو مجھے پاگل کہیں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ طواف کررہے ہوں اور میں سجدہ کروں ؟ ! انھوں نے کہا اگر یہ بات ہے تو سن لو کہ حضرت ابن زبیر نے ایک مرتبہ آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہیں کیا۔ پھر حضرت حارث بن ابی ربیعہ نے آیت سجدہ پڑھی اور آکر کہنے لگے اے امیر المؤمنین ! ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے آیت سجدہ پڑھی تھی، لیکن آپ نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ میں کیوں سجدہ کروں ؟ جب میں نماز میں ہوتا ہوں تو سجدہ کرتا ہوں اور اگر میں نماز کے باہر آیت سجدہ کی تلاوت کروں تو سجدہ نہیں کرتا۔ حاتم بن ابی صغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عطاء سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے سر کو اشارے سے جھکا لو۔