(۴۴۲۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ: إنَّ فُلاَنًا صَلَّی بِنَا الْفَجْرَ فَقَرَأَ بِسُورَۃٍ سَجَدَ فِیہَا ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَوَقَدْ فَعَلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّی عُمَرُ مِنَ الْغَدِ ، فَقَرَأَ بِالنَّحْلِ وَبَنِی إسْرَائِیلَ ، فَسَجَدَ فِیہِمَا جَمِیعًا۔
(٤٤٢٥) حضرت بکر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ فلاں شخص نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں ایسی سورت پڑھی جس میں سجدہ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا اس نے واقعی ایسا کیا ہے ؟ خبر دینے والے نے کہا ہاں۔ حضرت عمر نے اگلے دن فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة النحل اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت کی اور دونوں میں سجدہ کیا۔