(۴۴۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُلْغ الشَّکَّ ، وَیَبْنِ عَلَی الْیَقِینِ ، فَإِذَا اسْتَیْقَنَ التَّمَامَ رَکَعَ رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، فَإِنْ کَانَتْ صَلاَتُہُ تَامَّۃً ، کَانَتِ الرَّکْعَۃُ وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَۃً ، وَإِنْ کَانَتْ نَاقِصَۃً کَانَتِ الرَّکْعَۃُ تَمَامَ صَلاَتِہِ ، وَالسَّجْدَتَانِ یُرْغِمَانِ الشَّیْطَانَ۔ (ابوداؤد ۱۰۱۶۔ احمد ۳/۸۴)
(٤٤٣٦) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے تو شک کو زائل کردے اور یقین پر عمل کرے۔ اگر اس کو نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو تو ایک رکعت پڑھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگئی تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل بن جائیں گے۔ اگر اس کی نماز نامکمل تھی تو اس رکعت کی وجہ سے مکمل ہوجائے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل کردیں گے۔