(۴۴۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ رَمَیْتُ الْجِمَار فَلَمْ أَدْرِ بِکَمْ رَمَیْتُ ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ یُجِبْنِی ، فَمَرَّ ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : یُعِیدُ یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، لَیْسَ شَئٌَٔ أَعْظَمَ عِنْدَنَا مِنَ الصَّلاَۃ ، فَإِذَا نَسِیَ أَحَدُنَا أَعَادَ ، قَالَ : فَذَکَرْت لابْنِ عُمَرَ قَوْلَہُ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ أَہْلُ بَیْتٍ مُفْہِمُونَ۔
(٤٤٥٩) حضرت ابو مجلز کہتے ہیں کہ رمی جمار کرتے ہوئے مجھے یاد نہ رہا کہ میں نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔ چنانچہ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عمر سے سوال کیا لیکن انھوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ اتنے میں حضرت ابن الحنفیہ گذرے میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندے ! تم دوبارہ رمی کرو، ہمارے نزدیک نماز سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، جب ہم میں سے کوئی نماز میں بھولتا ہے تو اس کا اعادہ کرتا ہے۔ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت ابن عمر سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ اہل بیت ہیں اور زیادہ سمجھنے والے ہیں۔