(۴۶۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِیَّۃَ ، عَنْ خَالَۃِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أُخْتِہِ صَفِیَّۃَ أُمِّ مَنْصُورٍ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِی امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الدَّارِ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ : لِمَ دَعَاک رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ خَرَجَ مِنَ الْبَیْتِ ؟ قَالَ : قَالَ : إنِّی رَأَیْتُ قَرْنَیِ الْکَبْشِ فَنَسِیتُ أَنْ آمُرَک أَنْ تُخَمِّرَہُمَا ، وَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی أَنْ یَکُونَ فِی الْبَیْتِ شَیْئٌ یَشْغَلُ الْمُصَلِّیَ۔ (ابوداؤد ۲۰۲۳۔ عبدالرزاق ۹۰۸۳)
(٤٦١٨) بنو سلیم کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کمرے سے نکلتے ہوئے آپ کو کیا کہا تھا ؟ حضرت عثمان نے فرمایا کہ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے ہیں، میں تمہیں یہ حکم دینا بھول گیا کہ تم ان پر کپڑا ڈال دو ۔ کمرے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازی کو اپنی طرف متوجہ کرے۔