(۴۶۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِأَبِی ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ وَأَنَا حَاجٌّ ، فَدَخَلْت عَلَیْہِ مَنْزِلَہُ ، فَرَأَیْتُہُ یُصَلِّی یُخَفِّفُ الْقِیَامَ قَدْرَ مَا یَقْرَأُ (إنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ) ، وَ(إذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ) وَیُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ ، رَأَیْتُک تُخَفِّف الْقِیَامَ وَتُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ؟ فَقَالَ : إنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً ، أَوْ یَرْکَعُ لَہُ رَکْعَۃً ، إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ بِہَا عَنہ خَطِیئََۃ ، وَرَفَعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃ۔ (احمد ۵/۱۴۷۔ بزار ۳۹۰۳)
(٤٦٦٢) حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ میں مقام ربذہ میں حضرت ابو ذر کے پاس سے گذرا، میں حج کے ارادے سے تھا۔ میں ان کے گھر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اتنا مختصر قیام فرماتے جتنی دیر میں سورة الکوثر اور سورة النصر پڑھی جاسکے۔ وہ رکوع اور سجدے کثرت سے کرتے تھے۔ جب انھوں نے اپنی نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا آپ قیام کو مختصر کر رہے ہیں اور زیادہ رکوع و سجود کررہے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے اور اس کے لیے رکوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک گناہ کو معاف کرتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔