(۴۶۶۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : أتَیْتُ الشَّامَ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یُصَلِّی ، یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ وَلاَ یَفْصِلُ ، فَقُلْتُ : لَوْ قَعَدْتُ حَتَّی أَرْشُدَ ہَذَا الشَّیْخَ ، قَالَ: فَجَلَسْتُ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃ قُلْتُ لَہُ : یَا عَبْدَ اللہِ ، أَعَلَی شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَی وِتْرٍ ؟ قَالَ : قَدْ کُفِیتُ ذَلِکَ ، قُلْتُ : وَمَنْ یَکْفِیک ؟ قَالَ : الْکِرَامُ الْکَاتِبُونَ مَا سَجَدْتُ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَنِی اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً ، وَحَطَّ عَنِّی بِہَا خَطِیئَۃً ، قُلْتُ : مَنْ أَنْتَ یَا عَبْدَ اللہِ ؟ قَالَ : أَبُو ذَرٍّ ، قُلْتُ : ثَکِلْت مُطْرِفًا أُمُّہُ یُعْلِمُ أَبَا ذَرٍّ السُّنَّۃَ ، فَلَمَّا أَتَیْتُ مَنْزِلَ کَعْبٍ قِیلَ لِی : قَدْ سَأَلَ عَنْک ، فَلَمَّا لَقِیتُہُ ذَکَرْتُ لَہُ أَمْرَ أَبِی ذَرٍّ ، وَمَا قَالَ لِی ، قَالَ : فَقَالَ لِی مِثْلَ قَوْلِہِ۔
(٤٦٦٤) حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ میں ملک شام حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور بغیر فصل کے رکوع و سجود کررہا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بیٹھ کر ان بزرگ کا کھوج لگانا چاہیے کہ یہ کون ہیں ؟ چنانچہ میں بیٹھ گیا ۔ جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! آپ نے طاق رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا ہے یا جفت ؟ انھوں نے کہا میں اس سے بےنیاز ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بےنیاز کیا ہے ؟ انھوں نے کہا اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں نے۔ کیونکہ میں نے جب بھی سجدہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ایک درجہ بلند کیا اور مجھ سے ایک گناہ کو ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندے ! آپ کون ہیں ؟ انھوں نے کہا میں ابو ذر ہوں۔ میں فوراً بولا مطرف کی ماں اسے کھو دے، وہ حضرت ابو ذر کو سنت سکھاتا ہے ! جب میں حضرت کعب کے مکان پر حاضر ہوا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے حضرت ابو ذر کی بات کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔