(۴۶۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عن قَیْسٍ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنِّی لأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ مِمَّا یُطِیلُ فُلاَنٌ فِیہَا ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَیْتُہُ فِی مَوْعِظَۃٍ أَشَدَّ مِنْہُ غَضَبًا یَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّ فِیکُمْ مُنَفِّرِینَ ، فَأَیُّکُمْ صَلَّی بِالنَّاسِ فَلْیُجَوِّزْ ، فَإِنَّ فِیہِمُ الضَّعِیفَ وَالْکَبِیرَ وَذَا الْحَاجَۃِ۔ (بخاری ۹۰۔ ابن ماجہ ۹۸۴)
(٤٦٩١) حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فجر کی نماز سے اس لیے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ! اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وعظ کے لیے کھڑے ہوئے اور میں نے آپ کو کسی وعظ کے دوران اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا۔ آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” اے لوگو ! تم میں سے کچھ دین سے لوگوں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو کوئی نماز پڑھائے تو مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور کسی کام کی جلدی میں مبتلا آدمی بھی ہوتے ہیں “