(۴۸۱۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ شَغَلُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ ، حَتَّی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللَّہُ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ، فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔ (ترمذی ۱۷۹۔ احمد ۱/۳۷۵)
(٤٨١٤) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ بدر میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار نمازوں میں مصروف رکھا۔ جب رات کا کافی حصہ گذر گیا تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا۔ انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی پھر آپ نے پہلے ظہر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی پھر عصر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی پھر مغرب کی نماز پڑھی پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی۔